Skip to main content

کووڈ کی ویکسین – تین منٹ وہمی باتیں (Urdu)

حقیقت:   تمام ویکسینز نے کلینیکل تجربات مکمل کیے اور محفوظ گردانی گئیں۔ لیکن ان ویکسینز کی حفاظتی نگرانی جاری ہے جو کہ عموماً نئی آنے والی ویکسین کے ساتھ ہوتا ہے۔ کچھ انٹر نیٹ پر اس پڑھائی اور تاریخوں کا دعویٰ کرتے ہیں (2023 پفائزر) کے لیے لیکن اس کا صحیح سیاق و سباق نہیں فراہم کرتے۔

حقیقت:   یہ پفائزراور موڈرنا ویکسین کے کال کرنے کے متعلق غلط فہمی ہے جو کہ نئی ٹیکنالوجی mRNA کا استعمال کرتی ہیں۔

جب کہ ویکسین میں کرونا وائرس(نہ کہ پورا وائرس) کی جینیاتی معلومات کا کچھ حصہ موجود ہے  تا کہ آپ کا بدن اس سے لڑنا سیکھے، یہ ترسیلی ہدایات آپ کے DNA کے ساتھ نہیں مل سکتی  اور استعمال کے بعد بدن ان کو تباہ کر دیتا ہے۔

حقیقت:   غلط ہے، کیوں کہ ان میں کرونا وائرس کی فعال شکل نہیں ہوتی۔ کوئی بھی عارضی مسئلہ (تمام لوگوں کو یہ نہیں ہوتے) صرف آپ کی مدافعت کے نظام کا رد عمل ہے ایسا رد عمل کہ جیسے وہ اصلی وائرس سے لڑ رہا ہو۔

حقیقت:   کوئی بھی ویکسین 100% تحفظ فراہم نہیں کرتی۔ لیکن دونوں خوراکوں کے بعد، حالیہ ویکسینز مجموعی طور پر کوووڈ کے خلاف بہت اچھا تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ اور یہ ڈیلٹا قسم کے خلاف بہت ذیادہ مؤثر ہیں (پفائزر  96% اور آکسفورڈ  - ایسٹرا زینیکا 92%)۔

یاد رکھیں، حتیٰ کہ صحت مند ترین لوگوں کو بھی کووڈ کی بری ترین حالت کا سامنا ہو سکتا ہے اس لیے آپ کے لیے یہ بہت خطرہ ہے۔

حتیٰ کہ کچھ لوگوں کو معتدل علامات کے ساتھ بھی طویل وقت تک کووڈ ہو سکتا ہے، جہاں تھکاوٹ ، سانس کی کمی، پٹھوں میں درد اور توجہ میں مشکل طویل ہوتی جاتی ہے ابتدائی انفیکشن کے بعد۔

حقیقت:   اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسا نظام ہے جس سے ویکسین خواتین کے حاملہ ہونے کی صلاحیت پر اثر کرے۔ انٹر نیٹ پر گردن کرنے والے ایک وہم کا خدشہ تھا کہ کرونا وائرس پر سپائیک پروٹین جس پر ویکسین کیے گئے شخص کی اینٹی باڈیز حملہ آور ہوتی ہیں اس پروٹین سے متشابہ ہے جو پلیسنٹا میں پایا جاتا ہے۔ تاہم، یہ غلط ہے۔ یہ اتنے متشابہ نہیں ہیں کہ تشویش کا باعث ہوں۔

حقیقت:   اسوہم نے بہت ذیادہ عوامی مقبولیت حاصل کی ہے لیکن یہ قدرتی ہے کووڈ انفیکشن اور طویل کووڈ جو کہ مردوں میں نقص ایستادگی سے جڑے ہیں۔ ویکسین سے جڑی اس بات کی کوئی رپورٹ نہیں اور کووڈ کے انفیکشن کے نقصانات کے خلاف تحفظ کے لیے ویکسین کی تجویز کی جاتی ہے۔

Share this page
Find us on